Breaking News

چوبرجی باغ : جہاں دریائے راوی بہتا تھا


لاہور سے ملتان جانے والی سڑک کے شروع اور پی آئی اے کی سیارگاہ سے کچھ فاصلے پر ایک دو منزلہ عمارت ہے جسے اس کے چار میناروں کی وجہ سے ’’چوبرجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ چوبرجی دراصل ایک وسیع وعریض باغ کی ڈیوڑھی تھی۔ یہ باغ لاکھوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک حد نواں کوٹ اور دوسری مزار داتا گنج بخشؒ سے ملتی تھی۔ یہ اپنی وسعت اور خوبصورتی کے لحاظ سے شالامار باغ کے بعد بے حد مقبول باغوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے قریب ہی دریائے راوی بہتا تھا دریا کے زور کی وجہ سے باغ کو بہت نقصان پہنچا۔


باغ والوں کے اٹھ جانے کے بعد باغ پر توجہ نہ دی گئی اور پھر رفتہ رفتہ دریا کی سرکش لہروں اور زمانے کے بے رحم ہاتھوں نے اس باغ کی بارہ دریاں‘ روشیں‘ آبشاریں اور چاردیواری سب مٹا دیئے۔ اگر کچھ بچا تو یہ دروازہ جو اس کے بنانے والوں کی خلوص نیت کا مظہر ہے۔ اس باغ کی بانیہ کون تھی؟ اس کے متعلق دو خیال ہیں بعض مؤرخین اسے شہنشاہ اورنگزیب کی لائق خالق دختر زیب النساء سے منسوب کرتے ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ اسے شہنشاہ شاہ جہاں کی بیٹی جہاں آراء (بیگم صاحبہ) نے بنوایا۔ تاریخی شواہد کی روشنی میں دوسرا بیان درست ہے۔ شاہ جہاں کی بیٹی اورنگزیب کی بہن جہاں آراء بیگم اپنے باپ کی طرح تعمیرات کی بڑی شوقین تھیں۔ اس نے دیگر یادگاروں کے علاوہ تیس ہزاری باغ دہلی اور باغ جہاں آراء لاہور بنوائے جس کے متعلق وثوق سے کہا جاتا ہے کہ یہ اس باغ کا ایک دروازہ تھا جو آج چوبرجی کہلاتا ہے۔ دہلی کا باغ آج بہت مختصر ہو چکا ہے اور ملکہ ’’باغ بیگم‘‘ کہلاتا ہے۔

لاہور کا مذکورہ باغ جہاں آراء نے اپنی کنیز خاص ’’میابائی‘‘ کو دے دیا تھا جس کا پتہ عمارت کے مشرقی دروازے پر درج شعر سے بھی ملتا ہے جو کچھ یوں تھا۔ ترجمہ : اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے جو وقار اور قیوم ہے اور جو زمانے کا پیدا کرنے والا ہے یہ جنت نظیر باغ مکمل ہوا اور زمانے کو آراستہ کرنے والی زبیندہ بیگم صاحب نے ازراہ کرم اسے میابائی کو مرحمت کر دیا۔ اب اس شعر کا صرف ایک ہی عرصہ مکمل طور پر باقی ہے باقی شعر مٹ چکا ہے۔ یہ شعر نیلے حروف میں لکھا گیا ہے جس کے نیچے پیلی زمین اور چاروں طرف حاشیہ ہے میابائی کا مقبرہ بھی اس باغ کے اندر بالکل قریب تھا جو سکھوں کے عہد حکومت میں ختم کر دیا گیا اور اب اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ چوبرجی کی پوری عمارت پر بڑا نفیس خوبصورت اور جاذب نظر کام کیا گیا نیلے پیلے اور سبز رنگوں کے علاوہ دیگر کئی رنگ استعمال کئے گئے ہیں۔

ابھی بھی کہیں کہیں نقش و نگار بڑے واضح اور نکھرے نکھرے نظر آتے ہیں افغانستان جاتے ہوئے اورنگزیب نے لاہور کے دوسرے باغوں کے ساتھ ساتھ اس باغ کی بھی سیر کی اور اسے بیحد پسند کیا اگرچہ اس وقت یہ زیر تکمیل تھا مگر پھر بھی اس کی خوبصورتی قابل دید تھی۔1843ء کے بعد عمارت کا شمال مغربی دروازہ اور اس کے ساتھ کا کچھ حصہ گر گیا تھا جسے بعد میں بڑی خوبصورتی اور مہارت سے تعمیر کر دیا گیا ہے اگرچہ اس پر ابھی تک نقاشی نہیں کی گئی تھی صرف اگلے حصے کی زنجیر باقی رہ گئی ہے۔ عمارت کے ایک طرف چھوٹا باغیچہ بنا دیا گیا ہے جہاں لوگ عموماً بیٹھتے ہیں جس کے آخر میں اس کا سن تعمیر 1056ء لکھا ہوا ہے۔ اس کے ہشت پہلو میناروں پر خوبصورت گلکاری اور نقاشی ابھی بھی موجود ہے.

شیخ نوید اسلم


No comments