Breaking News

لاہور چڑیا گھر کی سوزی کے سفر کا اختتام


تین دہائیوں سے زیادہ کا سفر اختتام پذیر ہوا۔ لاہور چڑیا گھر کی ہتھنی، جسے سب
سوزی کے نام سے جانتے تھے، کل صبح چل بسی۔ سوزی نا صرف چڑیا گھر کی سیر کے لیے آنے والوں بلکہ عملے کی ہردل عزیز تھی۔ چڑیا گھر میں اس کے جنگلے کے سامنے آنے والوں کا رش رہتا تھا۔ کل سے یہ مقام ویران ہے۔ لاہور چڑیا گھر میں چند جنگلوں کے لیے ایک رکھوالا ہوتا ہے لیکن سوزی کی خدمت پر دو رکھوالے مامور تھے۔ تین دہائیوں تک سوزی کی خوب خدمت کی گئی۔ اس کی موت کا صدمہ اسے دیکھنے والوں سے زیادہ اس کا خیال رکھنے والوں کو ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ساتھ کئی سال بتائے۔


سوزی کو صبح کے وقت جنگلے سے نکال کر سیر کرائی جاتی تھی۔ یہ کام تفریح کے لیے آنے والوں سے پہلے کیا جاتا تھا۔ اس وقت تک آنے والوں کے لیے چڑیا گھر کے گیٹ نہیں کھلے ہوتے تھے۔ سیر کے بعد اسے باقاعدگی سے نہلایا جاتا تھا۔ ہاتھی نہانا بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسے کھانا دیا جاتا تھا جس میں گھاس اور پھل وغیرہ شامل ہوتے۔ سوزی کو دیکھنے والے اسے پیسے دیتے جسے وہ سونڈ ھ سے پکڑ کر اپنے رکھوالے کو دے دیتی۔ سوزی کو افریقہ سے چھ سال کی عمر میں 1992ء میں لاہور چڑیا گھر لایا گیا تھا۔ شروع میں لوگوں کو اس کی پشت پر بٹھا کر سیر بھی کرائی جاتی تھی لیکن یہ سلسلہ 1999ء میں ختم کر دیا گیا۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ ہیلتھ سائنسز کی ٹیم کی جانب سے کئے جانے والے پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی سوزی کی موت کی وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔

ڈاکٹر مہران خان


No comments