Breaking News

لاہور کے علمی خزانے

شہر اور دیہات کی زندگی میں کوئی مناسبت اور جوڑ نہیں ہے۔ گاؤں کی کسی گلی
سے گزریں اور پھر آپ کا شہر کے کسی راستے سے گزر ہو تو لگتا ہے آپ راستہ بھول گئے ہیں۔ گاؤں کے خاموش گلی کوچوں اور شہر کے پر رونق راستوں میں کوئی جوڑ نہیں گاؤں کی زندگی کسی گھر کے اندر کی ہو یا باہر بازار کی دونوں میں کوئی یگانگت اور مناسبت نہیں اور تعجب ہوتا ہے کہ دونوں جگہوں پر گھومنے پھرنے والے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

ان کی ضروریات اور لباس کی تراش خراش بھی جدا جدا ہوتی ہے۔ کسی ٹیلر ماسٹر کی ڈیزائننگ اور اس کے ہاتھ کی صفائی ضروری نہیں کہ اس کے قریب بیٹھے کسی دوسرے کاریگر جیسی ہو اور دونوں ہم ’زبان‘ ہوں ان کی زبانیں اور ہاتھ اپنا انداز رکھتے ہیں اور اسی پر فخر کرتے ہیں اپنی اسی انفرادیت کا کھاتے ہیں اور ان کے گاہک بھی موقع ملے تو اپنے کسی استاد کی تعریف کر جاتے ہیں کیونکہ کسی بہتر کاریگر سے تعلق کسی کے لباس میں کوئی نیا رنگ بھر دیتا ہے لیکن ایسے کلاسیکی انداز رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوتی جو اپنی کسی انفرادیت کے لیے مشہور ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کسی شہر کی پرانی روایت سے چپکے ہوئے ہیں۔

ان کے کاریگر بھی پرانے ہیں اور ان کے ڈیزائنوں کی آب و تاب بھی پرانی اور کلاسیکی ہے۔ لاہور کا ایک پرانا مشہور ٹیلر ماسٹر فوت ہو گیا اس کے ہاں اظہار افسوس کے لیے میں نے شہر کے کئی بڑے لوگ افسردہ دیکھے۔ اب انھیں نہ صرف نیا کاریگر تلاش کرنا پڑے گا بلکہ اس کو آزمانا بھی پڑے گا اور نہ جانے وہ ان کے معیار پر پورا اترے یا نہیں۔ پرانے ماسٹر صاحب کی زندگی تک ان کے لیے ایسی کوئی پرابلم نہیں تھی بلکہ دیکھا تو یہ بھی گیا کہ کپڑوں کے ختم ہونے کی بھی اطلاع ہی انھیں دینی پڑی کہ فرمائش مکمل ہو گئی۔


مجھے یہ سب لاہور کے ایک پرانے درزی کی وفات پر یاد آیا جس کی ماتم پرسی کے لیے لاہور کے رؤسا کا ہجوم تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو کسی نئے جوڑے کے لیے صرف پیغام بھیجتے تھے اور تیار لباس عموماً تاخیر اور کئی یاد دہائیوں کے بعد موصول ہوتا تھا لیکن پسند کے عین مطابق اور یہی وہ واحد خوبی تھی جو اس فنکار کو نصیب ہوئی تھی اور کس کپڑے کے پیچھے وہ فنکاری جو عام سے کپڑے کی جون ہی بدل دیتی تھی۔ پوچھا جاتا کہ کہاں سے سلایا ہے۔ لاہور کا یہ مشہور درزی جو اس شہر کی سب سے بڑی پر رونق سڑک پر آباد تھا اس کے مالکان نے یہ بھی خالی کرا دی اور یہ ٹیلر ماسٹر اپنی قینچیاں سمیٹ کر دوسری جگہ چلا گیا۔ اپنے تاریخی گاہکوں سمیت کلاسیکی انداز کے سلے ہوئے کپڑے بھی اس کے ساتھ ہی چلے گئے اور اس استاد نے اپنی نئی دکان سجا لی۔

میرے ایک خوش پوش دوست کو ایک بار اس درزی سے ملاقات کرنی تھی جو اپنی پرانی دکان سے بے دخل کر دیا گیا تھا چنانچہ تلاش بسیار کے بعد ہم اس کے گھر پر پہنچے اور اس سے نئی دکان کا پتہ لیا کہ یہ نئی دکان کسی بازار کی رونق نہیں تھی بلکہ یہ اس کاریگر کے نام پر تھی جو اپنی نئی دکان پر ان رجسٹروں کے اوپر بیٹھا تھا جن میں اس کے گاہکوں کے نام اور ناپ درج تھے اور یہی اس کا وہ اثاثہ تھے جن پر وہ زندہ تھا چنانچہ وہ اس اثاثے کو سنبھال کر رکھتا تھا اور اس کے اکثر گاہک صرف نام سے اپنے لباس کا پتہ چلاتے تھے۔ میں چند دن ہوئے جب اس کی پرانی دکان کے سامنے سے گزرا اور لاہور کی اس تاریخی دکان کے سامنے سے گزرا اور محض تجسس کی خاطر اس فنکار کا پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے عمر بھر کے اس اثاثے کے ساتھ ہی گزر گیا ہے۔ اس کی اولاد اس نعمت سے محروم تھی جس پر اس نے باعزت زندگی بسر کر دی اور بڑے بڑے لوگوں کو اپنے فن کا محتاج رکھا۔ میں لاہور کا باسی نہیں ہوں لیکن لاہور کی ان تاریخی نعمتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہوں جو اب اس شہر کی تاریخ کا ایک متروکہ حصہ بن چکی ہیں۔

یہ وہ لاہور ہے جو اس کے پرانے باسیوں کو بھی یاد نہیں ہے لیکن اصل لاہور یہی ہے جو کبھی چار دیواری میں بند تھا اور اس کے بازار اپنی خاص مصنوعات کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اور اس پرانے تاریخی لاہور کا یہی وہ اثاثہ تھے جس کا نام لاہور تھا۔ اب معلوم ہوا کہ لاہور کے یہ پرانے کاروباری اپنی اولاد کی خوشی پر قربان ہو گئے ہیں اور انھوں نے اپنی تاریخی دکانیں بڑھا دی ہیں۔ ان کی اولاد ان پرانی دکانوں سے مطمئن نہیں تھی اور انھوں نے لاہور کے نئے بازاروں میں ڈیرے ڈال دیے مگر وہ گاہک ان کے ساتھ نہیں گئے جن کے نام سے لاہور کے بازار آباد تھے۔

کچھ وقت پہلے مجھے ایک پرانی کتاب کی ضرورت پڑی تو معلوم ہوا کہ یہ لاہور کی ایک پرانی دکان سے مل جائے۔ میں جب اس بازار میں پہنچا تو پہلے تو اس پرانی دکان کی تلاش میں سرگرداں رہا جب یہ دکان مل گئی تو اس کے ایک کونے میں کتابوں کا ایک ڈھیر دکھائی دیا۔ اتفاق سے پرانا مالک بھی مل گیا جو نئی کتاب کی تلاش پر آمادہ ہو گیا اور دو تین دن کے بعد کا وعدہ کیا۔ اتفاق سے وہ کتاب مل گئی مگر بری حالت میں۔ مالک نے داد طلب کی کہ اس کتاب کو سنبھال کر رکھتے میں کتنی محنت کرنی پڑی۔ میں نے حسب توفیق اس کی محنت کا صلہ پیش کیا جو اس نے قبول تو کر لیا مگر مطالبہ زیادہ تھا جو شاید درست بھی تھا۔

اب لاہور کے شہر کے یہ بازار بھی پرانے ہو گئے ہیں اور یہاں کا سامان بھی اب پرانے لوگوں کو روتا ہوتا ہے لیکن شہر کے ان پرانے بازاروں کی وقعت کم نہیں ہو سکتی کہ یہ لاہور کی تاریخ ہیں۔ پرانے لاہور کے بازاروں کے نام بھی ایک تاریخ بن گئے اور ان کی مشہور زمانہ مصنوعات کے نام بھی اب تاریخوں میں ملتے ہیں۔ اگر آپ کبھی پرانے لاہور جائیں جو اب اس شہر کی تاریخ بن چکا ہے تو آپ کو اس کی پرانی کتابوں کا پتہ چل سکتا ہے جن کے پرانے ایڈیشن اب بھی کوشش کے بعد مل جاتے ہیں اور ان میں درج معلومات اور علم کے خزانے اب بھی کسی حد تک محفوظ ہیں۔ مجھے ایک کتاب درکار تھی تو دکان میں موجود نوجوان نے مہربانی کی اور وعدہ کیا کہ وہ کسی بزرگ کی مدد سے اسے تلاش کر لے گا۔

کئی بار چکر لگانے کے بعد بالآخر ایک دن وہ نعمت مل گئی لیکن نوجوان دکاندار نے قیمت وصول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آپ وعدہ کریں کہ اس کتاب کو محفوظ کرنے اور اس کے بعض حصے نقل کرکے انھیں زندہ کر دیں گے کیونکہ یہ ان کے بزرگوں کا اثاثہ ہے لیکن وہ اس اثاثے کی حفاظت اہل نہیں ہیں۔ یہ تو اتفاق سے ایک کتاب کی بات ہے لیکن لاہور کے ان پرانے بازار علم و حکمت کے خزانے پڑے ہیں جو وقت کے حوالے ہیں۔ اب دیکھیں ان پر ہمارے ہاتھوں کیا بیتتی ہے اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ کیا حکومت کا کوئی محکمہ ان خزانوں کو محفوظ کر سکتا ہے۔ شاید نہیں اب حالات ہی ان کے محافظ ہیں۔

عبدالقادر حسن

No comments