Breaking News

لاہوری سیاست زندہ ہو رہی ہے

سیاست اور صحافت لازم و ملزوم اور ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے سیاست کے
بغیر صحافت پھیکی اور صحافت کے بغیر سیاست دانوں کا رنگ پھیکا۔ ہم جیسے جنہوں نے ہر روز سیاست پر لکھنا ہوتا ہے کیونکہ قلم کی مزدوری اسی لکھنے لکھانے کے مرہون منت ہے ان کے لیے سیاست کو مفاد پرستی اور مک مکا میں بدل دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاست کا حسن گہنا سا گیا ہے اور سیاست نہ ہونے کی وجہ سے موضوعات کی کڑکی کا شکار ہیں۔ گزشتہ الیکشن کے نتیجہ کے بعد جمہوری سیاست کا تسلسل تو جاری ہے لیکن سیاست مسلسل الزامات کی زد میں رہی ہے۔

کبھی تو الیکشن میں دھاندلی کے خلاف واویلا، کبھی دھرنوں کی صورت میں اسلام آباد پر چڑھائی اور کبھی پانامہ کی صورت میں سیاسی میدان میں زلزلوں کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور یہ ابھی جاری ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند ادوار ہی گزرے ہیں جن میں سیاسی حکومتوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی موجودہ حکومت بھی ایک طویل آمرانہ دور کے بعد بننے والی حکومت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی رہی کہ ہمارے سیاستدانوں نے کبھی اس ملک کو اپنا گھر نہیں بنایا۔ حکمرانی کے مزے لوٹے اور پھر اپنے پسندیدہ ملکوں کی راہ لی۔ روز روشن کی طرح یہ صورت اب عیاں ہو چکی ہے کہ ہمارے کاروبار مفادات تو بیرون ملک ہیں لیکن ہم حکمرانی اسلامی جمہوریہ پاکستان پر کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں اور معصوم عوام کو اپنی چالاکیوں اور عیاریوں سے ورغلا کر آیندہ بھی کرتے رہیں گے۔
بات سیاست کے نہ ہونے کی ہو رہی تھی کہ اب سیاست سے زیادہ مفاہمت کا رواج چل نکلا ہے اور سیاست کہیں دور پڑی اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہی ہے۔ گو کہ سیاست میں مفاہمت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن مفاہمت کے نام پر جو مفاداتی سیاست آج کل ہو رہی ہے اس پر تو اناللہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ جمہوری سیاست کے نام پر ہر دور میں مختلف ناموں سے سیاست کا مذاق اڑایا گیا کبھی اسے میثاق کا نام دیا گیا اور کبھی اسے این آر او کے نام سے پکارا گیا لیکن اس سے نہ تو ملک کے حالات بدلے اور نہ ہی عوام کی حالت سدھری مگر ہمارے سیاستدانوں کی سیاست جاری رہی ان کے حالات سدھرتے بھی رہے اور وہ حالات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھالتے بھی رہے۔

ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے درمیان آخری مفاہمت میثاق جمہوریت کے نام پر کی گئی لیکن افسوس کہ اس میثاق کی روح رواں محترمہ بینظیر بھٹو اس کے ثمرات سے محروم رہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کے اثرات سے محفوظ رہ کر اپنے آپ کو امر کر گئیں اور اس کا بھرپور فائدہ ان کے سیاسی جانشینوں نے اٹھایا اور پارٹی پہلی دفعہ اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی قطع نظر اس کے کہ وہ حکومت کامیاب تھی اور ملکی ترقی میں اس کا کیا کردار تھا لیکن ایک بات کی داد دینی پڑے گی کہ ان کے سیاسی جانشینوں نے اس کا بھرپور استعمال کیا اور ان کے معاہدے کی پاسداری کی اور اب تک کر رہے ہیں۔

لاہور جو کہ سیاست اور سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور اس شہر نے سیاست میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور یہ کہا جاتا تھا کہ لاہور نے جس کو جتایا وہ ملک بھر میں کامیاب رہا یہاں پر ہر حکومت کی اپوزیشن سے مرحوم نواب زادہ نصراللہ نے اپنے مشہور و معروف حقے کے ساتھ اس کو آباد رکھا لیکن ان کے بعد ہمارے سیاستدانوں نے لاہور کو اپنا قلعہ کہتے ہوئے لاہوریوں سے ووٹ تو لیے لیکن کسی مرکزی لیڈر نے اس شہر کو اپنا سیاسی مرکز نہ بنایا سوائے چوہدری صاحبان کے جنہوں نے ہر طرح کے حالات میں اپنا ڈیرہ آباد رکھا ہوا ہے۔ سیاست کا یہ مرکز اجڑ گیا اور اس کو بابوؤں کے شہر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا اور ہم جیسے کارکن صحافیوں کو بھی اندر کی خبروں سے محروم کر دیا گیا لیکن لاہور کی اہمیت ہمارے لیڈروں کے دلوں میں شاید ابھی زندہ ہے اور انھوں نے ایک بار پھر اسی شہر سے آیندہ الیکشن کی سیاست کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنی سیاست کا آغاز اسی شہر سے کیا اور ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ مفاہمتی سیاست کے لیے ہر دلعزیز ہمارے سابقہ صدر آصف علی زرداری نے ایک بھرپور دور حکومت گزارنے کے بعد آیندہ الیکشن کے لیے لاہور میں ڈیرے ڈال دیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ آیندہ انتخابی سیاست لاہور سے کریں گے اور اپنے سیاسی مخالفین کو انھوں نے زبردست مقابلے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بطور سیاسی رپورٹر میں بھی خوش ہوا ہوں کہ چلو دیر آید درست آید کسی نے لاہور کی سیاسی مرکزیت کو زندہ کرنے کی کوشش تو کی گو کہ سیاست کے ڈیرے لاہور شہر کے مرکزی حصے سے بہت دور باہر منتقل ہو گئے ہیں۔

جس کے لیے آپ کو لاہور کی ٹریفک سے بچ بچا کر لیڈر حضرات سے ملنے جانا پڑتا ہے ورنہ اچھے وقتوں میں تو مال روڈ کے چند ہوٹلوں میں سب سیاسی لیڈروں اور کارکنوں سے ملاقات ہو جاتی تھی جہاں پر گرما گرم چائے کے ساتھ بحث و مباحثے ان کی رونق بڑھاتے تھے اور ہم سیاسی رپورٹروں کے لیے یہاں سے خبریں نکلا کرتی تھیں جو کہ بعض اوقات بڑی خبروں اور آج کی صحافتی لغت میں بریکنگ نیوز ہوتی تھیں۔ بات سیاست اور صحافت کی چولی دامن سے شروع ہوئی تھی اور اب ایک بار پھر سیاست عوام کا رخ کر رہی ہے جس سے عوام کے ساتھ ساتھ میں ذاتی طور پر بھی خوش ہوں کہ اب سیاسی موضوعات کا سلسلہ چل نکلے گا اور میرے ایڈیٹر کی یہ شکایت بھی ختم ہو جائے گی کہ میں اب سیاست پر کم کیوں لکھتا ہوں۔

عبدالقادر حسن

No comments