Breaking News

قلعہ لاہور میں موتی مسجد آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے

مشہور انجینئر مامور خان نے جہانگیر کے محل کے بیرونی دروازہ کے پاس یعنی مکتب خانہ سے ملحقہ یہ خوبصور ت مسجد تعمیر کروائی تھی ۔ لاہور میں تعمیر کی جانیوالی اس مسجد کے گول موتی نما گیند کی مناسبت سے اس کو’’ موتی مسجد ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مسجد کے بارے میں جہانگیری اور شاہ جہانی عہد کے مورخین نے کچھ نہیں لکھا۔ بعض مورخین اسے شاہجہان کے دور سے شمار کرتے ہیں۔ سکھ دور میں اس کو بطور شاہی خزانہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے مسجد کا مرکزی دروازہ مضبوط آہنی تختوں سے بند کر کے بڑے بڑے قفلوں سے بند کردیا گیا تھا اور باقی محراب نما دروازوں میں اینٹ کی دیواریں کھڑی کردی گئی تھیں ۔ مسجد کے کھلے دالان کے سامنے والے حصہ پر عارضی طور پر سایہ دار چھت تعمیر کر دی گئی تھی۔ 

7 فروری 1900ء کو وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے ایشائی سوسائٹی آف بنگال کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا ’’جب میں گزشتہ سال اپریل میں لاہور تھا تو میں نے تین سو سال قبل تعمیر شدہ شہنشاہ جہانگیر کی انتہائی خوبصورت مسجد کو دیکھا جو سکھ دور حکومت کی طرح اس وقت بھی بطور شاہی خزانہ استعال ہو رہی تھی۔ اس چھوٹی سی مسجد کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کے لئے ازسر نو تعمیر کرنے خواہش کا اظہار کیا تھا‘‘۔ لارڈ کرزن کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے عہد حکومت میں انتہائی بے توجہی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسجد کے تقدس کو پامال کیا۔ لہذا لارڈ کرزن کے احکامات کے تحت اس مسجد کی ازسر نو تعمیر کاآغاز ہوا۔ 

(پاکستان کے آثار قدیم سے اقتباس )

No comments